گکھڑ تاریخ کے آئینہ میں

میرے خیال میں اگر کوئی مشکل ترین اور پر خطر ریا ضت ہے تووہ تاریخ نویسی ہے اور تاریخ نویسی کا ایک باب جو اقوا م کی نشاندہی کرتا ہو یا کسی قوم کی شناخت کے بارے ہو کہ فلاں قوم نے کیسے جنم لیا خصوصی طور پر برصغیر پاک و ہند میں جو اقوام آباد ہیں ان پر قلم اٹھانا توپل صراط سے گزرنے کے مترادف ہے برصغیرر پاک و ہند میں جو اس قدر اقوام آباد ہیں کہ ان کا شجرہ نسب کا سراغ لگانے کے لئے ایک زندگی کی ریسرچ و تحقیق کرنی پڑتی ہے برصغیر پاک و ہند میں جو قبل از اسلام اقوام آباد تھی انہیںحرف عام میں ہندو ہی کہا جاتا تھا لیکن ہندو ہونا کوٰٰٰئی شناخت نٰہیں کیونکہ ہندو ایک عجوبہ روز گار قوم ہے پھر ابھی تک کوئی ایسا انساٰ ئیکلو پیڈیا مرتب نہیں ہوا جو ماضی قدیم اور حال کی پوری طرح نشاندہی کر سکےبرصغیر میں بے شمار اقوام ہیں جو قبایل میں تقسیم رہی ہیں پھر قبایل کے بطن سے آگے قبا یل جنم لیتے رہے ہیں اور برصغیر پاک و ہند کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی دنیا قدیم ہے گویا برصغیر پاک وہند کا وجود پتھر کے زمانے میں بھی تھا اس زمانے میں انسانوں کی پھچان ان کے رہایشی علاقوں سے ہوتی تھی کہ فلاں انسان پھاڑوں یا جنگل کا باشندہ ہے اور ایسی ہی حکومتیں قا یم تھی جو طاقتور ہوتا تھا اپنی حکومت کا اعلان کر دیتا تھا کہتے ہیں کہ ارتقا یی عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے چاہئے اس کی اشکال کچھ بھی ہوں لہذا انسان جوں جوں ارتقایی عمل سے گزرتا رہا اور ترقی کی منازل طے کرتا رہا اس نے اپنی پھچان کا ایک ذریعہ اپنایا جسے تا ریخ نے لفظ قوم سے تعبیر کیا اور قوم قبایل کے مجموعہ کا نام بھی ہے صرف اسلام ایک ایسا مذھب ہے جس نے قوم کی بجائے ملت کو اولیت دی اور ملت میں سبھی اقوام ایک ہی صف میں کھڑی دکھا ئی دیتی ہے اور ملت نے جغرافیایی تقسیم کا بھی خاتمہ کر دیا یعنی مشرق و مغرب میں آباد تمام اقوام اسلام کے نزدیک ملت کا درجہ رکھتی ہیں لیکن اس کے باوجوداسلام نے قبیلہ کی تمیز کو ختم نہیں کیا بلکہ اپنے اپنی تعلیما ت میں ہدایت کی کہ اپنی پھچا ن کے لیے اپنے قبیلہ کی شناخت کرائی، اس میں حکمت کے ہزاروں موتیو ں کی لڑی ہے-
کسی قوم کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی گزشتہ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے اور تاریخ کی ان قوتوں کو خاص طور پر پیش نظر رکھا جاے جو کسی قوم کی زندگی کے تسلسل کے لئے ماضی و حال میں توازن قایم رکھتی ہیں برصغیر پاک و ہند میں یقیناَََایسی اقوام یا قبایل رہے پیں جو اپنی عادات و اطوار اور شجاعت‘ پا مردی کی بدولت تخت حکمرانی پے فائز رہیں یہ نظام فطرت ہے کہ کسی بھی قوم کے پاس ہمیشہ اقتدار یا حکمرانی نہیں رہی اگر ایسی بات ہوتی تو نمرود اور فرعون کی اولادیں آج بھی تخت حکمرانی پر رونق افروز ہوتی یہ الگ بات ہے کہ ان جیسی عادات کے طور پر آج کے جمہوری عہد میں بھی ایوان اقتدار پائے جاتے ہیں یہ طے شدہ اور اٹل ہے کہ کل کی حکمران قوم آج کی زوال پزیر اورغلام قوم کا درجہ حاصل کر لیتی ہے لیکن تاریخ جو سینہ کائنا ت بھی ہے اور اس کے اوراق پر ہر قوم کے نقوش منعکس ہیں پھر برصغیر پاک و ہند میں ایسی اقوام نے بھی عروج حاصل کیا جو دوسرے خطوں سے ہجرت کر کے یا اپنی توسیع پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوے اپنی افواج کے ساتھ آیئں اور جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد برصغیر پاک و ہند کو ہی اپنا وطن قرار دیا مثال کے طور پرمغل حکمراں ظہیرالدین بابر کو ہی لیں جو مغل سلطنت کا بانی قرار دیا روس عرب مصر‘ شام اور دیگر خطوں سے بعض اقوام اپنی قسمت آزمائی کیلئے برصغیر پاک و ہند میں آئیں اور اپنی طاقت، علم اورجنگی اور فوجی مہارت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے تخت حکمرانی کی حقدارقرار پائیں انہیں اقوام میں برصغیر پاک و ہند کی ایک قوم گکھڑ جو پاکستان کے پو ٹھواری علاقوں آزاد کشمیر ، میر پور ، خان پور ، راولپنڈی میں نسل در نسل چلی آ رہی ہیں اوراس گکھڑ قوم کے ہزاروں کی تعداد میں افراد یورپ ، امریکہ اور مشرق وسطی کی ریا ستوں میں بسلسلہ روزگار مقیم ہیں ، برطانیہ کے مختلف شہروں میں قوم گکھڑ کے ایک اندازے کے مطابق کوئی دس ہزار خاندان آباد ہیں اور انہیں اپنے گکھڑ ہونے پر فخر ہے ذاتوں اور قوموں کے حوالہ سے جس قدر انسائیکلو پیڈیا برصغیر پاک و ہند کے بارے میں یورپی تاریخ ںویسوں کے مرتب کئے ان میں قوم گکھڑ اور اس کی مختلف شاخوں جسے حروف عام میں گھوت کہا جاتا ہے ان کا بھرپور انداز میں ذکر موجود ہے یہ الگ بات ہے کہ انسائیکلو پیڈیا مرتب کرنے والوں نے تحقیق کی بجائے مکھی پر مکھی مارنے کو ترجیح دی ہے تب ہی میں انہیں تاریخ دان کی بجائے تاریخ نویس لکھا ہے کیونکہ ناریخ دان تو وہ ہونا ہے جس کے بھی قلم ہو جایا کرتے ہیں جیسا کہ ڈی میکیکین اور اس روزنے ذاتوں کے انسائیکلو پیڈیا نے قوم گکھڑ کے بارے میں بلا تحقیق ہی بات رقم کر دی

جو فرشتہ نے اپنی تاریخ میں لکھی وہ افسانوی تو ہو سکتی ہے لیکن حقیقی نہیں تاریخ اور افسانہ دو الگ عنوان ہیں لہذا افسا نہ کو تاریخ کا نام دینا فرشتہ کا ہی کمال قرار دیا جا سکتا ہے جبکہ دیگر مورخین البیرونی ابن اشرابن ابن بطوطہ وغیرہ اپنی کتب میں اقوام ہندوستان کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ ہندوستان میں ایک قوم گکھڑ بھی ہے جو اپنی جنگی مہارت فطری شجاعت کی بنا پر بڑی روشن اور تاباں تاریخ کی مالک ہے اگر میں یہ کہوں کہ قوم گکھڑ کی سرشتہ ہی شجاعت کا مرکب ہے تو یہ ایک حقیقت ہو گی جس کہ گواہی اور شجاعت گکھڑ قوم کے جد امجد کے گوہر سے لے کر سلطان گکھڑ کی حکمرانی کے واقعات دیتے ہیں اور سلطان گکھڑ کے اسم گرامی کی نسبت سے گکھڑ قوم برصغیر پاک و ہند میں متعا رف ہوئی گکھڑ قوم کو اگر تاریخ کے آئینہ میں دیکھا جائے کہ برصغیر پاک و ہند میں داخل ہونے کے بعد اس نے کون کون سی فتوحات میں کامیابی حاصل کی اور اپنے قیام کے لئے کن کن علاقوں کا انتخاب کیا کیوکہ علاقہ کا انتخاب بھی کسی قوم کے عادات و اطوار میں نشاندہی کرنے میں بڑی معاونت کرتے ہیں لہذاجن علاقوں میں قوم گکھڑ اجتمعاعی طور پر آباد ہوئی ان علاقوں کو اصلاحی اورجغرافیائی زبان میں پوٹھو ہار کے نام سے پکارا جاتا ہے برصغیر پاک و ہند میں زمانہ قدیم اور فرنگی سامراج کے عہد کے دور حکومت میں بھی پوٹھو ہار کے علاقوں کو فوجی جوانوں کا علاقہ ہی قرار دیا جاتا ہے ۔قیام پاکستان کے بعد بھی افواج ہاکستان میں جوانوں اور افسروں کا تعالق انہی پو ٹھوہا ر کے علاقے سے ہے جس میں جہلم، میر پور ، ایبٹ آباد ، راولپنڈی اور ہزارہ شامل ہیں جنرل ایوب خان اور اس کے بعد کے تمام چیف کے عہد پر اگر ایک نظر ڈالیں جب افواج تیا ر کی جا رہی تھی تو یہ ریکارڈ کی بات ہے کہ پوٹھو ہاری علاقوں کے جوانوں کو ترجیحٰی بنیا دوں پر بھرتی کیا گیا جب کہ میدانی علاقوں کے افراد فوج کی طرف کم توجہ دیتے تھے تو پوٹھو ہا ر کے ہر نوجوان کی خواہش ہوتی تھی کہ وہ فوج میں شامل ہو کر اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرے ۔ پاکستان کے زیادہ تر نشان حیدر اور ستارہ جراءت حاصل کرنے والوں کا تعالق پوٹھو ہار سے ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ پوٹھو ہاری علاقوں کو فوجی جوانوں کی نرسری کہا جاتا ہے لہذا کسی بھی قوم کی تاریخ لکھتے وقت مورخ کی نگاہ اس قوم کے ماضی بعید پر ہوتی ہےکہ وہ کہاں سے چلی اور کن کن مراحل سے گزری شکست و ریخت کا سامنا کتنی منزل پر ہوا اور اور ان دشوار گزار منزلوں کو عبور کرنے کے بعد اپیے شناخت برقرار رکھنے میں کیسے کامیاب ہوئیں اور کون کون سے سردار قوم کے پرچم بردار رہے قوم گکھڑ جو مختلف قبائل کے مجموعہ کا نام ہےیعنی گکھڑ قوم مختلف ذاتوں میں تقسیم ہونے کے ماوجود بطور گکھڑ ہی اپنی پہچان کراتی ہے اور رکھتی ہے اور میں یہ بات پورے وثوق اعتماد اور تاریخی حقیقت کے ساتھ کہ سکتا ہوں کہ صدیوں کا سفر طے کرنے کے باوجود آج کے سائینسی دور میں ہزاروں کے کھڑے ایک شخص کو اہل نظر اور اہل تاریخ پہچان لیتے ہیں کہ یہ شخص گکھڑ ہے یہی بات میرے نزدیک کسی قوم ذندہ پائیندہ ہونے کی بین دلیل ہے جو برصغیر پاک و ہند کی دیگر اقوام کے مقابلہ میں امتیازی مقام عطا کرتی ہے

یہ زمانہ کی ستم ظریفی بھی کہی جا سکتی ہے برصغیر پاک و ہند کے بارے میں تاریخ فرشتہ میں بھی ذکر ہو چاہے وہ ذکر متنازع انداز میں ہی کیوں نا ہو ۔
کوئی بھی مورخ اور تاریخ دان اگر حقائق سے ہٹ کر غلط باتوں کو تاریخ کا حصہ بناتا ہے تو یہ متفقہ علیہ بات ہے کہ وہ تاریخ دان کی بجائے ناول نویس کا درجہ اختیار کرلیتی ہے لہذا فرشتہ نے بھی قوم گکھڑ کے جد امجد کے گوہر پر حملہ آور ہوتے ہوئے باتیں تحریر کردہ ہیں جو پتھر کے زمانے یعنی قبل از تاریخ بھی نہیں ملتی جبکہ ابن اشیر ابن بطوطہ اور البیرونی جیسے مورخین نے اشارتاَبھی قوم گکھڑ کے بارے میں فرشتہ جیسے واقعات کا کوئی ذکر نہیں کیا گویا ان مورخین نے فرشتہ کی تاریخ کی نفی کی ہے ۔ البیرونی جیسا صاحب ہوش تاریخ دان اور مورخ جسے ہندوستان کا نبض شناس بھی کہا جا سکتا ہے جس نے ہندو قوم کے بارے میں ایسے ایسے انکشاف کئے اور جو کچھ ہندوؤ ں کے بارے لکھا وہ صدیا ں گزر جانے کے باوجود آج بھی وہی تصویر دکھائی دیتی ہے جس کی نقاب کشایی البیرونی نے کی لہذا البیرونی اور ابن بطوطہ اپنے سفرناموں کی رویئداد میں قوم گکھڑ کا خصوصی طور پر ایک بہادر قوم کے طور پر ذکر کرتا ہے تو ناریخ فرشتہ کے مصنف قاسم کی یا وہ گوئی محض ایک افسانہ سے زیادہ کوئی درجہ نہیں رکھتی اگر کتب قدیم کو سامنے رکھتے ہوے قوم گکھڑ کے بارے میں بات کروں تو پھر یہ بات کہے بغیر نیں رہ سکتا کہ اس پر تو کتابوں کی کتابیں رقم ہونا چاہئیں تھی لیکن یہ کس قدر افسوس ناک اور تاریخی المیہ ہے ک جس قوم کی بہادری جواں مردی شجاعت اور عزائم کی پختگی سے مرغوب خوفزدہ ہو کر شیر شاہ سوری جیسا بہادر حکمراں قلعہ روہتاس قائم کرنے پر مجبور ہو گیا یہ کیسے ممکن ہے کہ قوم گمنامی کی غاروں میں گم ہو کر رہ جائے-

یوں تو ہر قوم کی تاریخ پر مبنی کتب موجود ہیں لیکن جس قوم کے شمشیر برادر اور شجاعت ہونے کے حوالے البیرونی ابن بطوطہ بھی رقم طراز ہو اس کے شان نزول کے بارے میں ایک مکمل لائیبریری کی ضرورت ہے بہر کیف گکھڑوں کی تاریخ پر مختلف کتب زمانہ بعید کے بعض گکھڑوں نے تحریر کی ہیں ان میں ایک کتاب کے گو ہر نامہ جو کہ فارسی زبان میں تھی جسے ایک رائے زادہ براہمن دولی چند نے تحریر کیا تھا اس کا ترجمہ راجہ یعقو ب طارق (مرحوم)نے بڑی عرق ریزی کے ساتھ کیا اور اپنی قوم کو اس کے گم شدہ اوراق سے آگاہ کیا جبکہ تاریخ گکھڑاں راجہ دائیر الزماں خانپوری نے ایک اور زاویہ سے مرتب کی ہے اور قوم گکھڑ کی تاریخ سے اپنی قوم کے ساتھ دیگر اقوام کو بھی متعارف کرایا سلطان اختر ظہور آف پھر والا کی کتاب انگلش میں کے گوہر نامہ نے بڑی شہرت حاصل کی جب کہ ان کی ایک اور کتاب اردو میں مارکیٹ میں آ چکی ہے یہا ں ایک بات ضرور کہوں گا
کہ تمام مصنفین کی کوششیں قابل تعریف اور لائق تحسین ہونے باوجود مصنف حضرات نے اپنے قبیلہ کو ہی اولیت دی ہے حالانکہ اصولی اور اخلاقی طور پر جن صاحبان علم و ذہن نے گزشتہ ایک صدی میں اپنی صلاحیت اور اہلیت کے پرچم کو بلند سے بلند تر کیا تھا ۔ اس کا خصوصی طور پر ذکر ہونا چاہیے تھا جو نہیں کیا گیا مثا ل کے طور پر دنیائے انصاف کی ایک قد آور شخصیت چیف جسٹس آف پاکستان رستم کیانی جن کی عدالتوں کے فیصلوں کو بین الاقوامی طور پر سند کے طور آج بھی پیش کیا جاتا ہے اور جنہوں نے پاکستان میں سب سے پہلے آمریت کو للکارا اور آمریت کے قوم کو بیدار کرنے میں تاریخ ساز کردار ادا کیا ان کتابوں میں ان کا کوئی ذکر نہیں لہذا ان کتب میں پدرم سلطان کے پہلو کو بہت اجاگر کیا گیا ہے یعنی ہر تاریخ لکھنے والے نے اپنے ہی قبیلے کے کے افراد کو ہی ہیرو کے طور پر پیش کیا ہے انہوں نے گم شدہ اوراق کو منظر عام پر لا کر جو خدمات دی ہیں وہ قابل صر تحسین ہے اور ان کے کارنامے کو صدیوں یاد رکھا جائے گا لہزا راقم ( راجہ شکیل حیدر ) گکھڑ قوم کی تمام ذاتوں اور گوتوں سے یہ ضرور کہے گا کہ وہ کسی قبیلہ ذا ت اور گوت سے تعلق رکھتے ہیوں اپنی آئیندہ نسلوں کو اپنی قوم سے متعارف کرانے کے لئے ان کتب کا مطالعہ ضرور کرائیں اس لئے کہ ماضی حال کا عکاس ہوتا ہے
یوں تو گکھڑوں کی تاریخ کے گوہر سے شروع ہوتی ہے جس کی تحقیق آگے بیا ن کی جائے گی لیکن قوم گکھڑ کی ابتداء کیسے ہوئی اس پر مختصر ترین الفاظ میں روشنی یوں ڈالتے ہیں کہ جب صدیو ں کا سفر طے کرتے ہوئے قابل شاہ تک پہچی جو اس وقت قابل کے پہاڑوں علاقوں پر اس کی حکمرانی تھی تو ماموں رشید نے اس علاقے پر قبضہ کر لیا قابل شاہ نے اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرلیا اور اس کی اولاد بھی دائراہ اسلام میں داخل ہو گئی قابل شاہ کے پانچ بیٹے تھے گکھڑ شاہ ، انن شاہ، مہمند شاہ، تلوچن شاہ اور بجلی شاہ

قابل شاہ جو قابل حکمراں تھا اس کی وفات کے بعد اس کا بڑا بیٹا گکھڑ شاہ تخت حکمرانی پر رونق افروز ہوا سلطان محمود غزنوی کے ہمراہ ہندوستان میں داخل ہوا اور پوٹھوہار کے علاقہ کو سلطان محمود غزنوی کی کمان میں فتح کر لیا تو سلطان نے اس کو سلطان کا لقب دیتے ہوئے پو ٹھو ہار کے علاقے کا حکمران بنا دیا اور اس کی منسبت سے اس کے ہمراہ جس قدر اس کی قوم کے افراد آئے تھے انہوں نے خود کو گکھڑ سے منسوب کر لیا اور قوم گکھڑ کی برصغیر پاک و ہند میں حکمرانی بھی قائم ہوئی اور انہوں نے اپنی ایک الگ شناخت کرانے کے لئے گکھڑ کو اپنی ذات کا جزو لازم قرار دیا اور یہ بات بھی اپنی جگہ پر بڑی اہمیت رکھتی ہےقابل شاہ جس نے اسلام قبول کیا تھا وہ اکیلا نہیں بلکہ اس کی رعایا بھی دائرہ اسلام میں داخل ہوگئی تھی گویا سلطان گکھڑ بحثیت مسلمان قوم گکھڑ کا حکمراں تھا لیکن برصغیر پاک و ہند میں پہلا گکھڑ حکمراں تھا باقی تاریخ یوں بیان کی جاتی ہے
ضلع راولپنڈی میں گکھڑ کثیر تعداد میں آباد ہیں جہلم میں وہ سب سے پہلے ابرام نزد سلطان پورہ کے مقام پر وار ہوئے گکھڑوں کی اپنی روایات کے مطابق ان کا جد امجد کے گوہر تھا جو کہ کیکاؤس کیقےبادجمشید اور قیصر کا ہم عصر تھا اورا صفاہان پر حکمراں تھا اور کیان کی سرداری بھی کیکاؤس نے اپنی رسم تاجپوشی پر کےگوہر کو دے دی کےگوہر کے بیٹے سلطان کید نے زبردست تیاری کے تبت پر حملہ کر دیا اور اسے فتح کر لیا سلطان کید سے سلطان قاب تک گکھڑکی گیارہ نسلوں نے تبت پر حکمرانی کی جبکہ کشمیر میں گکھڑوں نے گیارہ پشتوں تک حکمرانی کی منوہر نامی کشمیری سردار نے اپنی بیٹی قاب خان کے بیٹے فرخ کے نکاح میں دے دی گکھڑوں کی یہ حکومت سلطان قاب خاًن سے سلطان قابل خان تک رہی جب سلطان رستم خان کہ شجوب مار کر ختم کر دیا گیا تو اس کا بیٹا سلطان قابل خان کابل شہر کی طرف چلا گیا اور کچھ عرصہ بعد اس علاقہ کو فتح کر لیا
سلطان ناصرالدین سبکتگین ٣٦٧ھ غزنی کے تخت پر بیٹھا اور اس نے لشکر کو منظر کر کے مزید علاقوں کو فتح کرنے کا منصوبہ بناہا اور اس نے گردو نواہ کے تمام علاقے فتح کر لیے اور شاہ قابل خان کے سامنے آ کھڑا ہوااور سخت خون ریز جنگ ہوئی لیکن یہ جنگ فیصلہ کن ثابت ان ہو سکی دونوں حریف ایک دوسرے کی طاقت کا لوہا مان گئےاور صلح کر لی اور اپنے اپنے ملک کی سرحدیں مقرر کر لیں اور ان میں دوستانہ مراسم ہو گئے یہ واقعہ ٣٦٩ھ میں پیش آیا ٣٧١ھ میں جب سبکتگین نے ہندوستان پر حملہ کیا تو قابل خان اس کے ہم رکاب تھا اس وقت ہندوستان طوائف الملوکی کا شکار تھاسب سے بڑا راجہ جے پال تھا-

قابل خان نے کابل کا اانتظام بہترین طریقے سے چلایا اور اسی جگہ انتقال کیا اس کے پانچ بیٹے رتن شاہ ،تلوچن شاہ ،گکھڑ شاہ ، مدن شاہ اور بجلی شاہ تھے
گکھڑوں کی نسل گکھڑ شاہ سے چلی جے پال کے ساتھ دوبارہ جب لمغان کے مقام پر جنگ ہوئی تو گکھڑ شاہ نے اس جنگ میں بے مثال شجاعت کے جوہر دکھائے جے پال شکست اٹھا کر ہندوستان واپس چلا گیا اس جنگ کے کچھ عرصہ بعد سبکتگین نے وفات پائی
سلطان محمود غزتوی ٣٨٧ھ میں تخت نشین ہوا کابل کا علاقی قابل خان کی سرداری ہی یں رہنے دیا گیا سلطان محمود غزنوی نے ٣٩٢ھ کو پشاور کے پقا پر جے پال کو عبرت ناک شکست دی اور جے پال اپنے بیٹوں اور بھائیوں سمیت میدان جنگ میں مارا گیا
سلطان محمود غزتوی نے ٣٩٢ھ بمطابق ١٠٠٢ میں علاقہ پوٹھوہار گکھڑ کو دے دیا کابل بھی گکھڑ شاہ کے زیر نگیں رہا گکھڑ شاہ باقی ماندہ زندگی سندھ ساگر میں ہی سکونت پزیر رہا ۔
اور ٤١٩ھ بمطابق ١٠٠٢ اس جہان فانی سے کوچ کر گیا گکھڑ شاہ کہ کابل میں دفن کیا گیا
تاریخ فرشتہ کے مطابق گکھڑوں کا مؤرث اعلی کیدراج رتھس اجو قنوج سے آہا تھا جب سلطان محمود غزنوی جے پال پر حملہ آور ہوا تو تیس ہزار گکھڑوں نے سلطان محمود غزنوی پر اتنی شدت سے حملہ کیا کہ سلطان محمود غزنوی کو پسپا ہونا پڑا تاریخ فرشتہ میں تحریر ہے کہ گکھڑ سلطان شہاب الدین محمد غوری کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوئے اور سلطان کو کوٹ دھمیک کے مقام پر گکھڑوں نے قتل کیا
(روایت ہے کہ سلطان شہاب الدین محمد غوری کو قرامطیوں نے شہید کیا تھا گکھڑشاہ کے اس بیٹا بج یا بجلی شاہ تخت نشین ہوا اور محمود سے خلعت حاصل کی سلطان محمود ٤١٢ ھ بمطابق ١٠٣٠ کو انتقال کر گیا )سلطان محموس کے بیٹے مسعود غزنوی نے ہندوستان پر کوئی خاص توجہ نہ دی
بجلی شاہ نے اپنے علاقہ پر اڑتیس سال تک حکو مت کی اور ١٠٦٦ میں وفات پا گیا اس کے دو بیٹے مہپال اور سبوگی سے سبوگیال گوت چلی ، اس دوران ہندوستان کے راجاؤں نے سندھ ساگر پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی مگر مہپال نے ان کی چال ناکام کر دی
مہپال چوبیس سال حکومت کے راہی ملک عدم ہوا اور اس کے بعد اس کے بیٹے موم نے بطریق احسن حکومت کی موم کے دو بیٹے تھے عاصی اور منصور ، منصور کی تیسری پشت میں طلا ہوا جس کے نام سے خانوادہ طلیاں مشہور ہے اس نے رہتاس میں رہائش اختیار کی اور اس کی اولاد پتہ طلیانہ کی مالک بن گئی اب یہ لوگ آڑہ خورد بڈھیار پنڈ ، جوال اور حسنوت میں آباد میں عاصی چھ سال تک حکمراں رہا اس کے بعد اس کا بیٹا تخت نشین ہوا جس نے دانگلی پر قبضہ کیا ، دانگلی ٥٨ سال تک گکھڑوں کا مرکز رہا اس سے قبل گکھڑ تقریباَ ایک صدی تک علاقی چانر اور بینر میں آباد رہے ، یہ راجہ ٥٥٥ھ میں وفات پا گیا اس کے تین بیٹے تھے سپر ، اسحاق اور شمشیر اسحاق نے چانہ اور بینر کو چھوڑکر میر پور کے نزدیک اپنے نام پر سیاق (سیاکھ) آباد کیا اور اس کی اولاد سیاحقان ، جندال ، کل جندرال وغیرہ کے ناموں سے مشہور ہے
تاریخ ہندوستان کے مطابق گکھڑوں نے سلطان محمود غزنوی کی سخت مخالفت کی اور اسے پشاور کے میدان جنگ میں انتہائی نازک صورتحال سے دو چار کر دیا تھا
جنرل کنگھم کے مطابق گکھڑوں کا تعلق نورانی نسل سے ہے جو ٥٠٠ قبل مسیح ایشاء میں آئے، جب سکندراعظم پورس سے نبرد آزما ہوا اس وقت گکھڑ ہندوستان میں موجود تھے ۔ ان کے علاوہ یہاں گرجز موجود تھے
فرشتہ کے مطابق گکھڑ غیور ، جنگجو قوم ہے جب گکھڑ دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے تو انہوں نے سکندرال اور سلطان پور فتح کیے یہ شاہراہ اعظم سے شمال کی سمت نیلی اور لہڑی کے پہاڑوں کے درمیان واقع ہیں اس کے بعد نیلی پہاڑی سے ٹلہ جوگیاں تک کا علاقہ گکھڑوں نے فتح کیا اور ٹلہ جوگیاں دریائے جہلم کے کنارے سنگھوئی تک ان کا راج قائم ہو گیا دوسرئ طرح گکھڑوں ادئرہ لنڈی پٹی چکوال تک وسیع ہو گیا جنجوعوں نے گکھڑوں کی سخت مخالفت کی اور گکھڑوں سے مقابلہ کیا مگر جنجوعے گکھڑوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے میں ناکام ریے صرف ایک مرتبہ ایک جنجوعہ سردار درویش خان گکھڑوں کو دانگلی تک پسپا کردیا مگر اس کی یہ کامیابی عارضی ثابت ہوئی اور وہاں ہاتھ خاں کی بے پناہ وحشت اور خون ریزی کا شکار ہو گیا ہاتھ خان ، ظہیرالدین بابر سے مقابلے کے بعد پھر واپس آرہا تھااور اس نے اپنا آزادانہ جنگی مہمات شروع کی ہوئی تھیں ہاتھی خان ن بار ہا جنجوعوں کا بار ہا مقابلہ کیا ۔ جب ہاتھی خان کا انتقال ہو گیا بابر نے دانشمندی سے کام لیتے ہوئے نہ صرف گکھڑوں سے دوستی کر لی بلکہ ان سے ایک معاون لشکر بھی حاصل کیا
جب شیر شاہ سوری نے ہمایوں کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کر دیا تو سلطان آدم خان سلطان سارنگ خان نے شیر شاہ کے خلاف اعلان جنگ کر دیا گکھڑوں کی بڑھتی ہوئی یلغاروں اور سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لئے شیر شاہ سوری نے جہلم شہر سے نو سو میل کے فاصلے پر ایک عظیم الشان قلعہ روہتاس قائم کرایا
لیکن دلیر گکھڑوں نے اس قلعے کے اردگرد گوریلا کاروائیاں جاری رکھیں اور اور اس گوریلا جنگ میں آدم خان کے بیس بیٹوں سے تیرہ میدان جنگ میں داد شجاعت کام آگئے اس کے باوجود گکھڑ ثابت قدمی سے جنگ لڑتے رہے
جب ہمایوں واپس آیا تو گکھڑوں نے خوب ترقی کی راولپنڈی میں گکھڑوں کی آدمال اور سارنگال گوتیں طاقت پکڑرہی تھیں ١٧٤٠ء میں سلطان مقرب خان آدمال نے چناب سے اٹک تک کے علاقہ پر حکمراتی کا دعوی کر دیا ڈومیلی میں بگیال بھی زور پکڑ رہے تھےمقرب خان کو گجرات میں سکھوں سے نزمت اٹھانا پڑھی مقرب خان واپس آیا تو بگیالوں نے بغاوت کر دی اور راجہ ہمت خان ڈومیلی نے روہتاس کا ماصرہ کر لیا- مقرب حان کو گرفتار کرلیا بعد ازاں اسے قبل کرا دیا گکھڑ قبائل مختلف مقامات پر آپس میں نبرد آزما ہوگئے اور اس خانہ جنگی سے کمزور ہو کر سکھوں کا آسان شکار بن گئے
تحصیل جہلم میں ٹلہ اور نیلی پہاڑیوں کے درمیانی علاقہ مٰیں اور دریا کے کنارے کے ساتھ دلیال کے گردونواح میں گکھڑوں کے بہت سے دیہات ہیں سنگھوئی کے میدانی علاقہ میں بھی گکھڑ کژت سے آباد ہیں گکھڑ جہلم کی ایک اہم قوم ہیں سب گکھڑ اپنا سلسلہ نسب گکھڑ شاہ سے جوڑتے ہیں گکھڑ بہت سی شاخوں میں تقسیم ہو چکے ہیں جن میں آدمال ، بگیال اور سکندرال زیادہ اہم ہیں آدمال کا تعلق سلطان آدم خان سے ہے سکندرال کا سکندر خان کی اولاد میں سے ہے آدمال کے پاس سلطان پور کے علاقہ میں بھی دو دیہات ہیں ۔ سکندرال جی ٹی روڈ سے شمال جانب آباد ہیں بگیال گکھڑ جہلم کی ایک مشہور شاخ ہے جو نیلی کے پہاڑوں سے جنوب کی طرف ٹلہ کے علاقہ میں رہائش پزیر ہیں کچھ ٹلہ کی دوسری طرف آباد ہیں
جہلم شہر کے ساتھ فیروزوال گکھڑوں کے چند دیہات ہیں ایک اور شاخ طلیال ہے جس کے پاس دریا ئے جہلم کے کنارے چند گاؤں ہیں جو دلیال اور بیلی بڈھیار کے نزدیک ہیں ان کا آبائی قبیلہ ماندس ہے گکھڑوں کی چھ گوتیں جہلم میں موجود ہیں آدمال سلطان پور میں سکندرال الہڑی بکڑالہ میں ،بگیال ڈومیلی بڑاہ گواہ اور پدھری میں ماندس بھیٹ اور سلہال میں مقیم ہیں
جہلم گزیڑ١٩٠٤، صفحہ ٨٩ میں جنرل کورٹ نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ گکھڑ یونانی قوم سے تعلق رکھتے ہیں بہت سے مورخ اس نظرئے کی تردید کرتے ہیں مگر اس کے باوجود کچھ گکھڑ خود کو سکنددر اعظم کی اولاد تسلیم کرتے ہیں مسٹر برانڈرتھ کے مطابق گکھڑوں نے پنجاب میں داخل ہونے کے لیے کشمیر کا راستہ اختیار کیا تھا اور گکھڑ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ہندوستان آنے سے قبل ان کے آباؤاجداد کشمیر کے حکمراں تھے
جنرل کنگگھم اپنی آرکیالوگی سروے رپورٹ جلد دوم صفحہ بائیس تینتیس میں رقم طراز ہے کہ گکھڑ یو پی سیتھین کی اولاد ہیں (جنرل کنگھم ہر قوم کا سلسہ یو پی سیتھین سے ضرور ملاتا ہے )جو شمال مغرب کی جانب سے سن عیسوی کی ابتدائی میں انڈیا میں داخل ہوئی مسٹر ایبٹ سن رپورٹ مردم شماری ١٨٨١ میں مسٹر تھامسن کی تائید کرتا ہے اور گکھڑوں کو تورانی قوم قرار دیتا ہے
فرشتہ نے اپنی تصنیف میں اس قوم کو وحشی ، جنگنو لکھا تھا جو زیادہ تر پہاڑیوں میں مقیم ہے گکھڑوں کا مورث اعلی کیگوھر یا کیگواہریا کیگوہر اصفہان کآ حکمراں تھا جس نے بعد از کشمیر اور تبت میں اپنا تسلط قائم کر لیا اور وہااں ایک عرصہ تک حکمرانی لیکن بعد ازاں اس کے خانداں کو واپس کابل جانا پڑا اس کے گکھڑ گیارہویں صدی محمود کے ساتھ ہندوستان آئے لیکن فرشتہ اس بات کی تردید کرتے ہوئے لکھتا ہے یہ قوم سلطان محمود سے قبل ہندوستان میں موجود تھی اور اس قوم کے جنگجو افراد نے پشاور کے میدان میں سلطان محمود کو نازک صورتحال سے دو چار کر دیا تھا گکھڑکے ایک ممتا ز فرد ایکٹر اسسٹنٹ کمشنر خان بہادر راجہ جہانداد خان فرشتہ کے بیانات کی تردید کرتے ہوئے لکھتا ہے کی فرشتہ سے قبل تمام مورخ اس بات پر متفق ہیں کہ شہاب الدین محمد غوری کو کھوکھروں نے شہید کیا تھا فرشتہ چونکہ گکھڑ اور کھوکھر قوم کا فرق نہیں جانتا اس لئے اس نے کھوکھر کی بجائے گکھڑ لکھا ہے اس نے اپنی تصنیف میں شیخا اور جسرات دو گکھڑ سردار لکھے ہیں جبکہ گکھڑ قوم کی تاریخ میں اس نام کےکوئی سردار نہیں گزرے یہ گکھڑ نہیں کھوکھر سردار تھے
مرزا اعظم بیگ نے اپنی گجرات سیٹلمنٹ رپورٹ ١٨٦٥ میں لکھا ہے کہ گکھڑ قوم کو وحشی ابن اثیر کی تقلید کرتے ہوئے لکھا ہے ورنہ خود فرشتہ اس قوم کے متعلق پوری معلومات نہیں رکھتا گکھڑوں کا خطاب راجا ایک روایتی اور رسمی خطاب ہے ورنہ گکھڑ سردار اور حکمران اپنے نام کے ساتھ سلطان کا لقب استمعال کرتے تھے
اقبال نامہ جہانگیری صفحہ نمبر ١٠٩ اور اکبر نامہ ٢٤٢کے مطابق گکھڑشاہ محمود کا قریبی ساتھی تھا تاریخ فارس کے مطابق ساتویں صدی عیسوی میں یزدگرد کے بیٹے نے ایران سے چین کی جانب ہجرت کی تھی اور تبت میں سکونت اختیار کر لی تھی اور گکھڑ کی تقریباَ پینتالیس نسلوں سے قبل اس خاندان میں یزوجرد کا نام ملتا ہے
مسٹر تھامسن نے راجہ جہانداد کے دلائل کی تائید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ شہاب الدین غوری گکھڑوں کے علاقے میں قتل ہوا تھا گکھڑ ابرام سے خداد کے علاقے تک پھیلے ہوئے تھے ظہیر الدین بابر نے اپنے حملے میں جنجوعہ خاندان کے علاقہ پر قبضہ کرلیا تھا پھر والہ کے گکھڑ سردار ہاتھی خان کو شکست دی تھی تاہم بعد ازاں بابر نے گکھڑوں کو دوست بنا لیا تھا جس کا ثبوت گکھڑوں نے شیر شاہ اور ہمایوں کی کشمکش کے دوران دیا تھا
تاریخئ پس منظر کی حآًًًًمل قوم گکھڑ خطہ پوٹھوہارو پنجاب کے لیے سرمایہ افتخار ہے جہلم، راولپنڈی اور اسلام آباد میں گکھڑوں کی واضح اکژیر سکونت پزیر ہے
گکھڑ ایک قدیم قوم ہے جو غیور اور بہادر ہیں پاک فوج میں شمولیت اختیار کر کے وطن عزیز کا دفاع کرتے ہیں گکھڑ پر اعتماد بہادر اور مستقل مزاج ہوتے ہیں بعض گکھڑ زراعت پہشہ بھی ہیں زمانہ حا ل میں بہت سارے گکھڑ ضلع فیصل آباد ، ساہیوال ، ملتان ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور بہاولنگرمیں آباد ہیں اور زراعت کے پیشہ سے منسلک ہیں
کرنل محمد اصغر خان ، برگیڈیر غازی الدین حیدر ، کرنل طارق یعقوب، سلطان ظہور اختر،راجہ شاہد ظفر، کرنل عبد الرؤف کیانی ،کرنل عبدالرشید کیانی (ستارہ جرت) میجر محمد اصغر کیانی ، میجر مسعود اختر کیانی ( ستارہ جرات)لیفٹیننٹ مشتاق نواز کیانی (شہید ) ستارہ جرات وغیرہ کا تعلق گکھڑقوم سے ہے جبکہ گکھڑ قوم کے بڑے بڑے خاندان گڈارہ ، سلطان پور ، لہڑی ، ڈومیلی ، بگڑالہ ، پھر والا اور خانپور وغیرہ میں ہے

باقی فقط نام  ُُ ُ الله “  کا

اپنا تبصرہ بھیجیں