قلعہ پھروالا

راولپینڈی سے تقریباََچھ سات میل کے فاصلے پر ایک سڑک کہوٹہ کی طرف جاتی ہے- علیوٹ سے مزید چھ کلو میڑ کے فاصلہ پر پہاڑوں کے دامن میں گھاٹیوں اور نشیبی ڈھلوانوں میں گھرے ہوئےریتلے اور پہاڑی پتھروں سے تعمیر شدہ پرانا قلعہ موجود ہے جو قلعہ پھروالا کے نام سے مشہور ہے- کبھی یہ مشہور قلعہ گکھڑوں کا دارالحکومت رہاجنہوںنے یہاں١٠٠٢ء سے ١٧٤٥ ء کی آخری حکمراننواب مقرب خان کو گجرات کے مقام پر اپنے ساتھیوں کی سازش سے سکھوں سے شکست ہوئی- ١٠٠٢ ء تا ١٥٦٤ ء کا زمانہ ایسا بھی گزرا کہ گکھڑبلا شرکت غیرے اس علاقہ کے حکمران تھے- قلعہ پھروالا علیوٹ سے شمال کی جانب تقریباََ پانچ چھ کلو میڑ کے فاصلہ پر ہے اس راستہ پھروالا جانے کے لئے چند کلو میڑ پہاڑوں کے درمیان سے پیدل جانا پڑتا ہے پورے پہاڑی علاقوں میں خشک ندی نالے آتے ہیں- ان ندی نالوں میں پانی کا نام و نشان نہیں- گھنٹہ بھر کی مسافت کے بعد قلعہ پھروالا پہنچتے ہیں- جنوب کی جانب سے ہاتھی گیٹ تک جانے کے لئے ایک پہاڑی اور آبی گزرگاہ سے گزرنا پڑتا ہےکہوٹہ روڑ محمد محفوظ نشان حیدر چوک سے پختہ سڑک کے ذریعے بھی قلعہ پھروالا پہنچآ جا سکتا ہےاس طرح سیدھٹ سیدھا بھمبر تڑار گڑھا جسں سے ہوتے ہوئے ڈھوک باغ جوگیاں پہنچتے ہیں اور وہاں پہاڑی سے نیچے اتر کر دریائے سوان کو عبور کر ک چھوٹی سی پہاڑی پر چڑھتے ہیں اور قلعہ پھروالا میں داخل ہوتے ہیں – دریائے سواں کے دونوں اطراف پہاڑیاں ہیں جو دریائے سوان سے گزرنے کے لئے بڑےبڑے پتھ سل کا کام دیتے ہیں – قلعہ ک اندر چالیس کے قریب خاندان رہتے ہیں جن کا تعلق کیانی قبیلہ سے ہے-

قلعہ پھروالا میں کئی اولیاء نے قیام کیا جن میں حضرت شاہ چراغ بادشاہ حضرت چن بادشاہ آف پنڈوری کے بھائی بیان کیے جاتے ہیں- ان کا مزار بھی یہاں ہے جہاں ٢٥ جون کو ہر سال ان کا عرس منایا جاتا ہے- ماضی سے قلعہ پھروالا سے دہلی لاہور اور ٹیکسلا کے راستے جاتے تھے- اس قلعہ میں سید مر کلاں بادشاہ روکھیا شریف نے ب قیام کیا قلعہ کے اندر لاتعداد کمروں کی بنیادوں کے آثار ملتے ہیں جو بیرونی حملہ آوروں نے تہسں نہسں کر دیئے ہیں- قلعہ کے چاروں طرف آبی گزر گاہیں ہیں لیکن پانی کے انتظام کے لئے ہاتھی گیٹ کے قریب باؤلی کے آثار بھی ملتے ہیں قلعہ کے دروازے اور بیرونی دیواریں صحیح حالت میں ہیں- بعض مقامات میں دیواریں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، دروازے شکستہ حالت میں ہیں – بابر نے توزک بابری میں قلعہ پھروالا کی تعریف کی اور اسے مظبوط قلعہ قرار دیا-بابر کے بیٹوں مرزاعسکری اور مرزاکامران نے شیر شاہ سوری سے بھاگ کر اس قلعہ میں پناہ لی،شہنشاہ ہمایوں نے یہان پر ہی دوبارہ ہندوستان کو فتح کرنے کا منصوبہ تیار کیایہیں ہمایوں کے بھائی مرزا کامران کی آنکھیں بیرم خان لے حکم پر بے نور ہوئیں- بعض مور خین کے نزدیک گکھڑ قبیلہ کے لوگ محمودغزنوی کے ساتھ یہاں آئے، پھروالا کا یہ عظیم الشان قلعہ سلطان گکھڑ شاہ نے ١٠٠٢ ء میں تعمیر کرایا جو ١٧٥ ایکڑ رقبہ پر پھیلا ہوا ہے پہاڑیاں اور دریا قلعہ کے لئے قدرتی دفاع کا کام دیتے ہیں- قلعہ کی دیواریں ٢٥ سے ٣٠ فٹ اونچی اور دس فٹ چوڑی ہیں- دیواروں کے اوپر تیر اندازوں اور پہریداروں کے استعمال کے لئے درےبنے ہیں-

قلعہ کے ٤ داخلی دروازے ہیں- ہاتھی دروازہ ہاتھیوں اور گھوڑا سوار فوج اور نقل و حرکت کے لئے لشکری دروازہ اور لشکر اور حملہ آور دستوں کے لئے زیارت دروازہ کے قریب بزرگوں کی قبریں ہیں- بیگم دروازہ خواتین کے استعمال میں تھا- باغی دروازہ یہاں کبھی دلفریب باغ مہکتاتھا- قلعہ دروازہ روزمرہ کی نقل و حرکت کے لئے استعمال ہوتا اس دروازہ میں ہاتھی دروازہ لشکری دروازے بڑے سائز کے ہیں کوڑا ختم ہو چکےہیں-قلعہ میں نقارخانہ کے آثار بھی ہیں قلعہ میں حکمران خاندانوں کے ساتھ ٥٠ ہاتھی ٢٠٠ گھوڑے اور ٥٠٠ نفوس پر مشتعمل تازہ دم پیادہ فوج ہر وقت موجود تھی باقی آبادی قلعہ کے باہر ٤٠٠ گھروں پر مشتعمل تھی قلہ کے دروازے تراشے ہوئے ریتلے پتھروں کی بڑی سلوں سے تعمیر کئے گئے دیواروں پہاڑوں پتھروں چونا گچ سے تعمیر کی گئی ہیں- قلعہ کے مغرب کی طرف دریائے سوان کے قریب ٣ گنبد والی قدیمی مسجد اب بھی موجود ہےجو آج کل ویران ہےمسجد کے شمال میں گکھڑ سرداروں سلطان اوم خان ممارا خان کے علاوہ خطہ پوٹھوہار کے آخری سلطان مقرب خان کا مقبرہ بھی ہےجسں کو سکھوں نے گجرات کے قریب شکست دے کر قلعہ پھروالا کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا- گکھڑوں نے ساڑھے سات سو سال اس علاقہ میں حکومت کی ١٢٠٦ ء میں شہاب الدین غوری نے بھی یہاں قیام کیا- شہاب الدین غوری نے پر تھوی راج کو شکست دینے کے بعد دہلی پر قبضہ کر لیا- واپسی پر سوہاوہ کے نزدیک گکھڑوں اور بعض روایات کے مطابق کو کھروں نے سب خون مار کر، شہاب الدین غوری کو شہید کر دیا اور اس کے بعد سلطان قطب الدین ایبک نے قلعہ پھروالا پر حملہ کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی- سلطان مقرب کی اولاد سے کچھ لوگ آج بھی قلعہ میں آباد ہیں-

اپنا تبصرہ بھیجیں